اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ سنہ 1389 ہجری شمسی کی آمد اور نوروز عالم افروز کے موقع پر پوری دنیا کے شیعیان و پیروان اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے شیعیان و پیروان نیز اپنے محترم قارئین و صارفین کو تبریک و تہنیت عرض کرتے ہیں اور امید کرتی ہے کہ آنے والا سال مسلمانان عالم خاص طور پر شیعیان آل محمد (ص) و اہالیان قدس و فلسطین کے لئے اشک و خون سے عاری اور سعادت و فتحمندی سے بھرپور ہو اور اللہ تعالی سے التجا کرتی ہے کہ مسلمانوں کی اشک شوئی کرتے ہوئے انہیں عظیم ترین تحفۂ عید سے نواز کر بقیۃاللہ الاعظم حضرت ولی عصر ارواحنا لتراب مقدمہ الفداء کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں ان کی رکاب میں اسلام کی عالمی حاکمیت کی راہ میں جہد و کوشش اور جہاد و خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ـ آمین یا رب العالمین۔
نوروز اسلام کی نظر میں
اشارہ: یہ مستند مقالہ یداللہ حاجی زادہ صاحب کا ہے اور فارسی میں لکھا گیا ہے جس کا اردو ترجمہ قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔
نوروز قدیم ایرانیوں کی عید ہے جو بہار کی آمد پر منائی جاتی ہے، سال کے نئی ہوجانے، موسم گرما کی آمد، سرما کی موت اور فطرت کے دوبارہ اگ آنے، خمودگی اور خواب و غفلت سے انسان کے بیدار ہوجانے اور جاگ جانے، فطرت سے متصل ہوجانے اور معاشرتی حیات کی طرف لوٹ کر آنے کی علامت ہے۔[1]
نوروز، تبدیلی اور تحول و تغیر اور دگرگونی کی علامت ہے اور موسم بہار کا آغاز ہے۔ اس موسم میں بے جان طبیعتNature میں نئی جان پڑتی ہے اور قدیم ایران کے قلمرو کے رہنے والے بھی گھروں کی صفائی اور گھر میں استعمال ہونے والی اشیاء کی دھلائی کرکے نیا لباس زیب تن کرتے ہیں اور اس فطری تبدیلی کا خیرمقدم کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ بے شک یہ تبدیل اچھائی اور بہتری کی طرف قدم ہے۔
یہ سب اچھائی اور نیکی اور نیک پسندی اور خیر و خیر پسندی اس وقت انتہائے خیر پر عروج کرگئی جب قدیم ایران کی ثقافت اسلام کے سعادت آفرین معارف و تعلیمات سے بہرہ مند ہوئی اور اسلام نے حقیقت پسند آنکھوں کو طبیعت و فطرت کی تبدیلی و تغیر سے باطنی انقلاب و اصلاح کی جانب متوجہ کردیا۔
نوروز کا پس منظر:
عید نوروز قدیم الایام سے ایران کی دو بڑی عیدوں میں سے ایک تھی۔ دوسری عید 16 مہر (8 اکتوبر) کو منائی جاتی تھی جس کا نام عید "مہرگان تھا"۔[2] آج کل مہرگان کی عید زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ نوروز "پیشدادی" سلسلے کے چوتھے بادشاہ "جمشید" کے دور میں ظہور پذیر ہوا اور اسی کے دور میں ایک قومی رسم کی صورت اختیار کرگیا۔[3] مسعودی نے اپنی کتاب "التنبیہ و الاشراف" میں لکھا ہے: «ہرمز فروردین کی پہلی تاریخ (21 مارچ) کو بار عام دے کر لوگوں کی شکایات سنتا اور ان کے مسائل حل کرتا تھا اور اس روز کو اس نے نوروز کا نام دیا اور نوروز ایک روایت میں تبدیل ہوگیا»۔[4]
حکیم ابوالقاسم فردوسی نوروز کے ظہور پذیر ہونے کی داستان نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "جب جمشید مملکت کے امور سے آسودہ خاطر ہوا "تخت کیانی" پر رونق افروز ہوا اور ملکی حکام اور لشکری امراء اس کے تخت کے گرد اکٹھے ہوئے ... جمشید نے اس روز کو ـ جو فروردین کا پہلا دن تھا ـ نوروز قرار دیا اور جشن منایا"۔
بہ جمشید گوہر افشاندند مر آن روز را روز نو خواندند
چنین روز فرخ از آن روزگار بماندہ از آن خسروان یادگار[5]
لوگوں نے جمشید پر گوہر افشانی کی اور اس روز کو نوروز کا نام دیا۔
یہ مبارک دن اسی دور سے بادشاہوں سے یادگار کے طور پر باقی ہے۔
اسلام اور نوروز:
اسلام نے نہ صرف نوروز منانے اور اس کی تکریم سے منع نہیں کیا اور اس کی مذمت نہیں کی بلکہ اسلام کی نظر میں ہر عقلمند انسان کے لئے ایک مبارک بہانہ ہے تا کہ وہ اس یہانے معنویت اور روحانیت کا طویل راستہ کو زیادہ تیزرفتاری سے طے کرے؛ نہ صرف نوروز بلکہ ہر وہ موقع اور ہر وہ مقام جو انسان کو غفلت کی مصیبت میں مبتلا کردے اور اس کو لہو و لعب سے دوچار کردے، ناپسندیدہ اور غلط ہے۔ ہم ہی ان مواقع کو "حقیقی عید" میں تبدیل کرسکتے ہیں یا انہیں گناہ اور آلودگی کے مواقع میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ [کہ معصوم (ع) نے فرمایا: وہ دین عید کا دن ہے جس دن اللہ کی نافرمانی نہ ہو]"۔
لوگوں نے نوروز کے بارے میں متعدد سوال کئے تو ائمۂ معصومین علیہم السلام نے ان کا جواب دیا ہے اور اس سلسلے میں ائمۂ علیہم السلام کی ہدایات سے غفلت نہیں کرنی چاہئے۔ اسراف اور عیش پرستی، فخر فروشی اور تکبر سے اجتناب، صلۂ ارحام (اور اقرباء کے ساتھ نیکی کرنا) اور دوستوں سے ملاقات کرنا، کینہ اور نفرت کا ازالہ کرنا، والدین اور معمر افراد پر احسان کرنا، گذرے ہوئے سال کے دوران اپنی مادی اور معنوی کارکردگی کا محاسبہ (خود احتسابی) کرنا، آنے والے سال کے لئے منصوبہ بندی کرنا، بچوں کے ساتھ محبت و مہربانی کرنا، اور دور افتادہ یا قریبی علاقوں میں سفر کرنا اس عید کی بہترین روایات ہیں جن کی بدولت ہم نوروز کو حقیقی عید میں تبدیل کرسکتے ہیں اور یہ وہی حال ہے جس کو نوروز کی مختصر دعا میں "احسن الحال" کا نام دیا گیا ہے۔
لیکن اس سلسلے میں محرومین اور محتاجوں کی طرف توجہ زیادہ قدر و قیمت رکھتی ہے۔ ایران میں ان دنوں نوروز سے چند ہی روز قبل "جشن نیکوکاری = Charity Festival" کا اہتمام کیا جاتا ہے؛ اور ہمیں ان ایام میں سال کے دیگر ایام کی طرح، کبھی بھی محرومین اور محتاجوں کی غربت بھری زندگی فراموشی کے سپرد نہیں کرنی چاہئے اور ان کو امدادرسانی سے غفلت نہیں برتنی چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری ذاتی یا خاندانی خوشی ننگے پاؤں چلنے پر مجبور انسانوں کے مصائب و مسائل سے ہماری غفلت کا سبب بنے۔
نوروز اور جشن نوروز کے بارے میں اسلام کی رائے مختلف احادیث و روایات میں بیان ہوئی ہے۔ گو کہ بیشتر احادیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے ایک اہم اور دن کے عنوان سے اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔
معلی بن خنیس نے امام صادق علیہ السلام سے جو حدیث نقل کی ہے اس میں آپ (ع) نے اس روز کو ان واقعات و حوادث کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے جو تاریخ میں اس روز رونما ہوئے ہیں۔[6] ابن فہد حلی لکھتے ہیں: "نوروز ایک جلیل القدر دن ہے اور اس روز سے بعض عبادات بھی مختص ہیں جو شارع کے نزدیک مطلوب ہیں"۔[7]
علامہ مجلسی بھی نوروز اور اس روز کی اہمیت کے بارے میں متعدد روایات نقل کرنے کے بعد نوروز کے خلاف وارد ہونے والی ایک روایت میں لکھتے ہیں: "امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے منصور دوانیقی سے مخاطب ہوکر فرمایا: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی روایات و احادیث میں تحقیق کی ہے مگر مجھے اس عید کے بارے میں کوئی حدیث نظر نہیں آئی؛ یہ روایت ایرانیوں کی روایت ہے اور اسلام نے اس کو محو کردیا ہے اور اللہ کی پناہ اگر ہم چاہیں کہ اس کا احیاء کردیں"۔[8]
علامہ مجلسی اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "معلی بن خنیس" کی روایات سند کے لحاظ سے اس روایت سے زیادہ قوی اور معتبر ہیں اور ان (ابن خنیس) کی روایات اصحاب (علمائے امامیہ) کے درمیان زیادہ مشہور ہیں"۔[9]
بہرکیف اگر یہ روایت درست بھی ہو تو اس میں کیا حرج ہی کہ کسی ایک دن کو خوشی کا دن قرار دیا جائی اور اس دن نیک اعمال بجا لائی جائین اور دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کا اہتمام کیا جائی اور غرباء کی مدد کی جائی اور اللہ کی معصیت سے اجتناب کیا جائی؟ کیا مختلف ممالک کی قومی ایام ـ جو ان ممالک میں جشن کی ایام سمجھی جاتی ہیں ـ اسلامی آیات و روایات کی مطابق ہیں؟!۔
نوروز کی آداب:
مختلف روایات میں نوروز کے دن کے لئے مختلف آداب بھی نقل ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی طرف یہاں مختصر اشارہ کرتے ہیں:
1- ایک نافلہ، یعنی نوروز کے دن نماز ظہر و عصر کے بعد ایک چاررکعنی نماز بجا لانا [10]، اس نماز کے سجدے میں دعا کرنا جو گناہوں سے بخشش کا باعث بنتی ہے۔[11]
2- غسل كرنا، صاف ستھرا لباس زیب تن کرنا اور خوشبو استعمال کرنا؛ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "نوروز کے دن عسل کرو، پاکیزہ ترین لباس پہنو اور بہترین خوشبو کے ذریعے اپنے بدن کو معطر کرو"۔[12]
3- ذكر کرنا، بالخصوص «یا ذاالجلال و الإكرام کا ورد کرنا۔[13]
4- روزہ رکھنا۔[14]
5- تحویل سال کے وقت دعا کرنا۔[15]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ:
[1]- علی بلوكباشی، ؛ نوروز، تہران، ادارہ ثقافتی تحقیقات مطبوبہ 1380 ہجری شمسی، ص 10۔
[2]- ابن واضح یعقوبی ـ تاریخ یعقوبی ـ فارسی ترجمہ محمد ابراہیم آیتی، مطبوعہ تہران، 1371 ہجری شمسی، طبع ششم، جلد1، ص 117۔
[3]- علی بن حسین مسعودی؛ مروج الذہب و معادن الجوہر، فارسی ترجمہ ابوالقاسم پائندہ، مطبوعہ تہران، 1374 ہجری شمسی، ج1، ص 218۔
[4]- علی بن حسین مسعودی؛ التنبیہ و الاشراف، فارسی ترجمہ ابوالقاسم پائندہ، مطبوعہ تہران، 1365 ہجری شمسی، طبع دوئم، ص 196۔
[5]- حکیم ابوالقاسم فردوسی، شاہنامہ فردوسی، مطبوعہ تہران، بروخیم، 1314 ہجری شمسی ج1، ص 26-25۔
[6]- عاملی، شیخ حر عاملی؛ وسائل الشیعہ، مطبوعہ قم مطبعہ آل البیت (علیہمالسّلام)، 1409 ہجری، ج8، ص 173۔
[7]- ابن فہد حلی ـ مہذب البارع، مطبوعہ قم، جامعہ مدرسین پریس، 1407 ہجری، ج1، ص 191۔
[8]- علامہ محمد باقر مجلسی ـ بحارالانوار ـ مطبوعہ بیروت، الوفاء فاؤنڈیشن، 1404 ہجری، ح56، ص 101۔
[9]- وہی مأخذ ـ ـ ایک محقق نے لکھا ہے: "اسلام نے عید نوروز کو نہ تو مکمل طور پر رد کیا ہے اور نہ ہی اسے مکمل طور پر قبول کیا ہے بلکہ اسلام نے نوروز کے الہی پہلو اور نیک اور مفید پہلوؤں کو قبول کیا ہے جو انسان کی سعادت کا سبب ہیں اور ان پہلوؤں کو شرعی حیثیت دی ہے اور اس کے منفی اور شرک آمیز اور خرافات اور انحراف پر مبنی پہلوؤں کی نفی کی ہے ـ ـ اسداللہ محمدی نیا ـ اسلامی اعیاد اور نوروز، مطبوعہ قم، 1376 ہجری شمسی، طبع اول، ص 41۔
[10]- اس نماز کی کیفیت مفاتیح الجنان کی باب "اعمال عید نوروز" میں ثبت ہے۔
[11]- شیخ حر عاملی؛ ج8، ص 173۔
[12]- وہی مأخذ، ج3، ص 335۔
[13]- شیخ عباس قمی ـ مفاتیح الجنان ـ اعمال عید نوروز، ص 559۔
[14]- وہی مآخذ ص 558۔
[15]- وہی مأخذ ص 559، بالخصوص دعائے «یا مقلب القلوب و الابصار۔۔۔»